Pakistan

Generous Pakistan: The Side They Will Never Show You

Generous Pakistan - The Side They Will Never Show You
نااُمیدی کے اندھیروں میں اُمید کے چراغ جلانے والے نوجوان رائیٹر مُحسن حدید کی ایک خوبصورت تحریر

…..تم مجھے بتاتے ہو کہ پاکستان میں پانی کے کولر سے گلاس باندھنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بے ایمان ہیں
لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ جس کولر کے ساتھ یہ گلاس بندھا ہوا تھا وہ بھی کسی پاکستانی نے کبھی ایصال ثواب کے لئے اپنے کسی عزیز کا نام لکھکر یا ویسے ہی آخرت میں ثواب کے حصول کے لئے اس چلتی راہ میں لگا دیا

تم مجھے بتاتے ہو کہ مسجد سے جوتے اٹھا لئے جاتے ہیں اب تو اللہ کا گھر بھی محفوظ نہیں – لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ اس مسجد کی تعمیر میں کتنے پاکستانیوں نے اپنی محدود اور لامحدود آمدنی سے چند سکے جوڑ کر یا لاکھوں کے چیکس کیصورت میں حصہ ڈالا ہے – تم یہ نہیں بتاتے کہ وہاں لوگوں کے سکون کیخاطر بجلی کا بل کوئی بھر رہا ہے – وہاں پنکھے ہیٹرز اور اے سی سسٹم کیلئے کچھ لوگ خاموش رہ کر مسلسل حصہ ڈالتے ہیں

تم مجھے بتاتے ہو کہ کسی ایک جگہ ایکسیڈنٹ ہوا تو لوگوں نے زخمیوں کے بٹوے تک نکال لئے – لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ ان رخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والے بھی اسی دھرتی کے باسی تھے – یہی وہ لوگ ہیں جو ہر حادثے کے بعد خون دینے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں پہنچتے ہیں

تم یہ تو بتاتے ہو کہ زلزلے میں ملنے والی امداد چند لوگ کھا گئے- لیکن یہ نہیں بتاتے کہ لاکھوں لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنے گھروں سے بالکل نئے بستر نکال کر 2005 کے زلزلے کے بعد ٹرکوں کے ٹرک بھر کر مسائل زدہ بھائیوں کے لئے بھجوا دئے تھے

تم یہ تو بتاتے ہو کہ کسی ناکے پر ایک پولیس والے نے کسی نوجوان کو گولی مار دی – لیکن تم بھول جاتے ہو کہ کتنے سپوت غیور ہماری ماوں نے اس دھرتی کے اوپر وار دئیے

تم مجھے بل گیٹس کے فلاحی کاموں کی مثالیں دیتے ہو – لیکن میرے ایدھی اور چھیپا کو بھول جاتے ہو

تم مجھے بتاتے ہو کہ ایک مشرف اور یحیی خان تھا – لیکن تم بھول جاتے ہوکہ ایک میجرعزیز بھٹی تھا
ایک سوار محمد حسین تھا –
ایک میجر طفیل تھا –
ایک لالک جان بھی تھا –

تم مجھے بتاتے ہوکہ ایک بنگلہ دیش بن گیا جس کے ڈاکٹر یونس کو گرامین بنک پر نوبل انعام مل گیا – لیکن تم میرے ڈاکٹر امجد ثاقب کو بھول جاتے ہو

تم مجھے بتاتے ہو کہ میرے سکولوں کے اساتذہ گنوار اور جاہل ہیں بچوں پر ظلم ڈھاتے ہیں – لیکن تم میرے شجیع نصراللہ کی دریائے کنہار میں لگائی جانے والی چھلانگ بھول جاتے ہو – تم میری سمیعہ نورین کو بھول جاتے ہو جو خود جل گئی لیکن بہت سے بچوں کو بچاگئی –  اور آرمی پبلک سکول کی طاہرہ قاضی کو بھی بھول جاتے ہو

لگے رہو تم لگے رہو
میں بھی لگا ہوا ہوں
تم ہر موقعے پرشورمچاتے رہو
میں ان چراغوں کی روشنی میں مزید چراغ جلاتا رہوں گا
تم مایوسی پھیلاتے رہو
میں امید کی ایک مدھم سی کرن کے پیچھے بھی چلوں گا
میں جانتا ہوں کہ اس کرن کے پیچھے کوئی سورج ہے کوئی چاند ہے
دیکھ لینا یہ روشنی کسی دن میرا آنگن
نور سے بھر دے گی
تم تب پلٹو گے جب میں کامیابی کی آخری سیڑھی پر کھڑا مسکرا رہا ہوں گا
لیکن میں تمہیں پھر بھی خوش آمدید کہوں گا کہ
میں امن سلامتی اور محبت کا داعی پاکستان ہوں میں ہی پاکستان ہوں۔

( نااُمیدی کے اندھیروں میں اُمید کے چراغ جلانے والے نوجوان رائیٹر مُحسن حدید کی ایک خوبصورت تحریر )

About the author

Muhammad Shafan

Shafan is a blogger, web designer and programmer. By day he is a freelancer as well. He loves to write and more than anything he loves to play football.

Add Comment

Click here to post a comment